نئی دہلی:12/اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )مغربی بنگال میں بی جے پی کے ایک لیڈر کی طرف سے ریاست کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے سر پر 11لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کرنے کا معاملہ بدھ کو پارلیمنٹ میں گونجا۔حکومت نے کہا کہ وہ اس قسم کے بیان کی مذمت کرتی ہے۔وہیں، علی گڑھ کے ایس ایس پی راجیش کمار پانڈے نے بتایا کہ ممتا کے سر پر انعام کا اعلان کرنے کے ملزم بی جے پی یوا مورچہ کے لیڈر کے خلاف ترنمول کانگریس کی شکایت پرمعاملہ درج کر لیا گیا ہے۔لوک سبھا میں صبح ایوان کی کاروائی شروع ہونے پر ترنمول کانگریس کے سوگت رائے نے اس معاملہ کو اٹھایا۔رائے نے کہا کہ بیربھوم ضلع میں بی جے پی کارکنوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا، جس کے بعد بی جے پی کے ایک لیڈر نے کہا کہ جو بھی ریاست کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کا سر قلم کر کے لائے گا، اسے 11لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔سوگت رائے نے اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک منتخب وزیر اعلی کے خلاف اس قسم کا بیان دینا انتہائی غیر مناسب ہے،جو سابق مرکزی وزیر بھی رہی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے میں متعلقہ بی جے پی رکن کے خلاف تمام ممکنہ کارروائی کرے جس نے اس قسم کا اشتعال انگیز بیان دیا ہے۔کانگریس لیڈر ملکا ارجن کھڑگے نے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون وزیر اعلی کے خلاف ایسا بیان نا قابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کے لیے حکومت کی جانب سے سخت پیغام آنا چاہیے۔پارلیمانی امور کے وزیر مملکت اننت کمار نے اس پر کہا کہ اس طرح کا جو سرپھرا بیان دیا گیا ہے وہ غلط ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایک جمہوری پارٹی ہے۔ممتا بنرجی ایک منتخب وزیر اعلی ہیں اور ان کا احترام کیا جا نا چاہیے۔